Showing posts with label Atbaf Abrak. Show all posts

کیسا میں ہم سفر تمہارا ہوں.... اتباف ابرک

کیسا میں ہم سفر تمہارا ہوں
ساتھ ہوں منتظر تمہارا ہوں

مجھ سے پوچھا مرا تعارف جو
کہہ دیا مختصر تمہارا ہوں

خود جو ٹوٹا تجھے بنانے میں
میں وہی کوزہ گر تمہارا ہوں

ہو سکے تم نہ میرے پل کے لئے
اور میں عمر بھر تمہارا ہوں

سایہ میرا تو میرے بس میں نہیں 
پر ہے وعدہ شجر تمہارا ہوں

ہم کو منظور ہر قیامت ہے
وہ جو کہہ دے اگر تمہارا ہوں

روک رکھا ہے ایک صحرا نے
ضد کرے میں ہی گھر تمہارا ہوں

تم تو دنیا کے ہوگئے ابرک
اور میں بے خبر تمہارا ہوں


صدیاں لگیں انسان کو جس علم کی خاطر..... اتباف ابرک

صدیاں لگیں انسان کو جس علم کی خاطر

دو وقت کی روٹی نے وہ پھر چھین لیا ہے

اپنی تھی دہائی کہ ہوا گھر میں اندھیرا

ایسی ہوئی شنوائی کہ گھر چھین لیا ہے


صدیوں کی مشقت نے جو سایہ تھا خریدا
اس دور نے ہم سے وہ شجر چھین لیا ہے

کہتے ہیں کہ جینا ہے تو جنگل کو ہی چلئے
انسان سے حیواں نے نگر چھین لیا ہے

تھا حکمِ خدا ظلم میں کر جاوں میں ہجرت
تہذیب کے زنداں نے سفر چھین لیا ہے

ہر شے میں نظر آتی ہے اب ایک سیاہی
اس رات نے رنگوں کا ہنر چھین لیا ہے

ابرک یہ شکایت نہیں بس رب سے ہے فریاد
کاہے مری دعاوں سے اثر چھین لیا ہے


اتباف ابرک


Khawabo sy Kary kasy wo Dill Shad Musalsal || Atbaf Abrak

خوابوں سے کریں کیسے وہ دل شاد مسلسل
تعبیر جنہیں کرتی ہے برباد مسلسل

لاحق ہے مری زیست کو تشویش مسلسل
میں قید مسلسل ہوں یا آزاد مسلسل

یہ بستیاں دل کی ہیں عجب حوصلوں والی
امیدِ مسلسل  سے ہیں آباد مسلسل

ڈھونڈے ہے نظر تیری فقظ ایک اسی کو
نظروں میں رہا جس کی تو بے داد مسلسل

وآپس نہیں آیا جو بھی اک بار گیا ہے
بس چہرے بدلتی ہے یہ روداد مسلسل

بکھرے ہوئے پتے ہیں بہاروں کی علامت
خوش فہمی نئی کرتا ہوں ایجاد مسلسل

اب ڈھائے ستم وقت کہ پھر جان سکوں میں
کچھ موم ہوا ہوں یا ہوں فولاد مسلسل

باتوں میں سبق ان کی بھی ہے نرم دلی کا
سوچوں میں بسے جن کے ہیں جلاد مسلسل

تنکا بھی نہ توڑا ہے کجا دودھ کی نہریں
اور خود کو سمجھ بیٹھے ہیں فرہاد مسلسل

کیوں آج بیاں ان کا ہے دنیا کی زباں پر
رتبہ کی وجہ جن کے ہیں اجداد مسلسل

ناپُرساں یونہی شہر یہ بگڑے گا مسلسل
جب تک کوئی بدلے گا نہ بنیاد مسلسل

پتھر ہیں ترے گرد یہ انسان نہیں ہیں
ابرک نہ کئے جا تو یوں فریاد مسلسل

Saturday, January 21, 2017

Na Sawalo Sy Azmaata Hu || Atbaf Abrak

نہ سوالوں سے آزماتا ہوں
نہ جوابوں سے دل جلاتا ہوں

نہ کسی بھید کی کُرید ہے اب
نہ دلیلوں میں سر کھپاتا ہوں

نہ کوئی بُت تراشنا ہے اب
نہ ہی دنیا میں جی لگاتا ہوں

نہ ہے دعویٰ کوئی بڑائی کا
نہ میں خود کو ولی بتاتا ہوں

نہ بیاباں پہ اب نظر میری
نہ کوئی محفلیں سجاتا ہوں

نہ کوئی رنگ, رنگ دکھتا ہے
نہ اندھیروں سے جاں چھڑاتا ہوں

نہ رہیں حاجتیں جہاں سے اب
نہ میں اب جھولیاں اٹھاتا ہوں

نہ ہیں اب یاد معنی لفظوں کے
نہ رویوں پہ تلملاتا ہوں

نہ مرا دل بہار میں لگتا
نہ کوئی گُل میں اب کھلاتا ہوں

نہ گلہ خواب سے کوئی باقی
نہ میں راتوں کو اب جگاتا ہوں

نہ کسی سے بھی اب عداوت ہے
نہ محبت پہ بھنبھناتا ہوں

نہ وہ کرب و فراق کے جھنجھٹ
نہ کسی آنکھ جھلملاتا ہوں

نہ ہوس مال و زر کی اب باقی
نہ ہے کچھ پاس ناں  گنواتا ہوں

نہ وکالت میں خود کی کرتا ہوں
نہ عدالت کوئی لگاتا ہوں

نہ کوئی شعر میرا باقی ہے
نہ میں زخمِ جگر دکھاتا ہوں

سبھی تِہ خاک کے ہیں یہ قصے
تھوڑا بس پیشگی سناتا ہوں

مرگ ہے اصل زندگی ابرک
میں ہی ظالم ہوں بھول جاتا ہوں

..................................اتباف ابرک

Hum Muyaser hai Sahara Kejeya || Atbaf Abrak

ہم میسر ہیں سہارا کیجے
جب بھرے دل تو کنارا کیجے

آپ پہ طے ہے بہار آنی ہے
دو گھڑی ہم پہ گزارا کیجے

ہم بھی آنسو ہیں چھلک جائیں گے
بس ذرا دیر گوارا کیجے

روئیے کھول کے دل اچھا ہے
کاہے یہ فرض ادھارا کٰیجے

آئینہ ہم کو سمجھ لیجے کبھی
اور پھر خود کو سنوارا کیجے

کچھ تعلق کا گماں ہوتا ہے
یونہی بے وجہ پکارا کیجے

خواب میں کر کے گزر پھر اپنا
کچھ تو امید ابھارا کیجے

جب کوئی صبح نئی مل جائے
ہم کو بھی ڈوبا ستارا کیجے

جائیے آپ اجازت ہے مری
اب کوئی اور بے چارا کیجے

یہ جو سامان میں دو آنسو ہیں
ان پہ بس نام ہمارا کیجے

دل جو پھر چاہے کوئی توڑنا دل
ہم پہ ہی کرم دوبارہ کیجے

جو فراموش ہوے ہو ابرک
آپ بھی عقل خدارا کیجے

ایک سے ایک حسیں ملتے ہیں
منتظر ہیں کہ اشارا کیجے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اتباف ابرک

Friday, January 20, 2017

Jeeny k unkasat Bahany Chaly Gay || Atbaf Abrak

جینے کے ان کے ساتھ  بہانے چلے گئے
اٹھ کر گئے وہ یوں کہ زمانے چلے گئے

احساس جن کے ہونے سے ہونے کا تھا کبھی
ان بے گھروں کے سارے ٹھکانے چلے گئے

کرنا یہاں پہ کیا تھا، مگر کر رہے ہیں کیا
ہم کیا کریں کہ اپنے سیانے چلے گئے

جو پاس تھے تو قصہ کیا دلفریب تھا
کھولی جو اب کتاب فسانے چلے گئے

رونق تو چار سو ہے مگر مفلسوں کو کیا
خالی ہیں ان کی جیبیں خزانے چلے گئے

تپتا ہے آفتاب تو جلتی ہے یہ زمین
موسم بھی ان کے پیچھے سہانے چلے گئے

حاسد سمجھ نہ لیجے, یونہی سوچتا ہوں میں
اب وہ نہ جانے کس کو رجھانے چلے گئے

ابرک محبتوں میں نہ دعوے کیا کریں
کیوں خود نہ آپ ان کو  منانے چلے گئے

.................................................. اتباف ابرک

Translate

Our Live Stream

Best of the Week

Powered by Blogger.

- Copyright © Best Urdu Poetry Collection -Metrominimalist- Powered by Blogger - Designed by Johanes Djogan -